ایجادات و نظریات کے عصر رواں میں جہاں سائنسی ایجادات کی بھرمار ہے وہیں مختلف قسم کےادبی و سائنسی، سیاسی و سماجی، معاشی و نفسیاتی اور فلسفیانہ نظریات کا بھی انبار لگا ہوا ہے۔ ایک نظریہ ابھی سانس لینے کو ہوتا ہی ہے کہ دوسرا اس کی رد میں آن موجود ہوتا ہے۔ اس نظریاتی افراتفری میں کسی ایک نظریے کا صدیوں تک رائج رہنا تو درکنار، چند ماہ و سال گزار لینا بھی کسی اعزاز سے کم نہیں۔ بابائے نفسیات، سگمنڈ فرائڈ کا تحلیل نفسی کا نظریہ ایک صدی مکمل کرچکا ہے۔ بعد از تنقیدِ بسیار، دنیا تحلیل نفسی کو نہ صرف ماننے پر مجبور ہے بلکہ اس نظریے کے زیرِاثر پروان چڑھنے والے دوسرے نظریات کی چھان پھٹک بھی بارِ دیگر کر چکی ہے۔ فرائڈ کا قول ہے کہ اس کے نظریات پر تنقید تو ممکن ہے مگر انکار نہیں ہے۔ تحلیل نفسی کئی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اوّل  تو وہ علمِ نفسیات کی اساس ہے۔ دوم، تحلیل نفسی کی مدد سے انسان کے لا شعور تک رسائی ممکن ہوئی ہے۔ اگرچہ جدید نفسیات تنقیدی طور پر لاشعور کے وجود پر سوال اٹھاتی ہے مگر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انسان کی شخصیت کی نامعلوم جہتوں تک رسائی تحلیل نفسی کی ہی مرہون منت ہے۔ تحریر ہذا میں راقم السطور نے امام غزالی اور سگمنڈ فرائڈ کے نظریات کے مابین نظر آنے والے تعلق کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ دونوں شخصیات کے درمیان میں صدیاں حائل ہیں مگر نظریات میں یگانگت دیکھ کر علم کے آفاقی نہ ہونے کا شک رفع جاتا ہے۔ ممکن ہے قارئین کے ذہن میں سوال اٹھے کہ فرائڈ نے ممکنہ بلکہ مبّینہ طور پر امام غزالی سے متاثر ہو کر جو نظریہ وضع کیا ہو اس کو تحلیل نفسی  کا نام دیے دیا ہو۔اگر ارنسٹ جونز نے جان بوجھ کر یہ بات چھپائی ہے تو واللہ و اعلم، وگرنہ  یہ بات کہیں ثابت نہیں ہے۔

غزالی نے اپنے فلسفیانہ بیانات میں انسان کے جس نفسیاتی پہلو پر روشنی ڈالی ہے وہ اس قدر جامع اور واضح ہے کہ جدید نفسیات بھی اس کی تائید کرتی ہے مگر بہ اندازِ دیگراں۔ اگرچہ سائنس روح، نفس، ذہن، لاشعور، لاذات، انا اور مافوق الانا جیسی اصطلاحات کے وجود پر سوال اٹھاتی ہے مگر وہ ان سے انکاری نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اصطلاحات علمِ نفسیات کی بنیادی اکائی کی حیثیت سے موجود ہیں۔ گزشتہ نصف صدی سے پاکستان میں نفسیات کو فلسفے سے الگ کر کے ایک علیحدہ اور منفرد مضمون کی حیثیت سے پڑھایا اور پڑھا جا رہا ہے۔ دوسرے بہت سارے علوم کی طرح اس کی جڑیں بھی فلسفے ہی میں مضمر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غزالی کا سارا علم نفسیات اس کے فلسفیانہ نظریات میں پنہاں ہے۔ اگرچہ انسانی شخصیت کے حوالے سے نفسیاتی پہلو کو فلسفیانہ پہلو سے الگ کرنا ایک مشکل کام ہے۔ مگر کوشش کی گئی ہے ان نظریات کی صحیح نفسیاتی توضیح پیش کی جائے۔

غزالی نے اپنی کتاب “احیاء العلوم” جلد سوئم میں روح، قلب، نفس اورعقل کا فرق واضح کیا ہے مگر ان میں جو خصوصیت مشترک ہے وہ غیرمادیت کی ہے۔نفس ہیّت کے اعتبار سےتو ایک مجرد شے ہے مگر تفاعلی زندگی کی اساس ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی برقی شرارہ ہو جو ہمہ وقت ہمارے جسم میں کسی دریا کی مانند بہتا رہتا ہے۔ روح کا تعلق قلب سے بالکل ایسے ہے جیسے مکین کا مکان سے ہوتا ہے۔ مکان کی خوبصورتی مکین سے وابستہ ہوا کرتی ہے۔ ویرانے اگر آباد ہوں تو وہ کسی محل سے کم نہیں ہوتے بصورتِ دیگر محلات پر ویرانوں کا احتمال ہوتا ہے۔ جسم کی مکین روح ہے اور روح ظاہری اعتبار سے علم کی شکل میں عیاں ہوتی ہے۔ یعنی روح کی خوبصورتی و بدصورتی کا انحصار خالصتاً علم کے حصول پر ہے۔ غزالی کے مطابق روح اور جسم کا رشتہ دو قسم کے علوم پر مشتمل ہے۔ اوّل علومِ مکاشفہ اور دوم علومِ معاملہ۔ اول الذکر کا تعلق روحانی علوم جبکہ آخرالذکر کا روزمرہ کے اعمال و افعال سے ہے۔

غزالی کے مطابق نفس دو قوتوں کا مجموعہ ہے۔ قوت الشہوانیہ اور وقت الروحانیہ ۔ شہوانیہ تمام منفی جذبات (غصہ، بھوک، ہوّس، وغیرہ) کا مجموعہ ہے جبکہ تمام مثبت جذبات (تحمل، صبر، عاجزی وغیرہ) قوت الروحانیہ کے معنوں میں شامل ہیں۔ ایسا نفس جس میں شہوت کی ہلکی سی بھی آمیزش ہو وہ اپنی ساخت کے لحاظ سے خام ہے اور اسے “نفسِ لوّامہ” کہتے ہیں۔ اس نفس کے پابند افراد احساسِ تقصیر کےساتھ زندہ رہتے ہیں۔ ہمیشہ اپنے آپ کو لعن طعن کرتے نظر آتے ہیں مگر باز نہیں آتے۔ دراصل وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں مجرم قرار پا چکے ہوتے ہیں۔ ان کے اندر منفی و مثبت جذبات کی جنگ جاری رہتی ہے۔اس جنگ میں اگر نفس منفی جذبات (قوت الشہوانیہ) سے پاک ہو جائے تو اسے “نفسِ مطمئنہ” کہا جاتا ہے۔ نفسِ مطمئنہ کے حامل افراد خوددار،متحمل، قناعت پسند ہوتے ہیں اور کسی قسم کے ذہنی انتشار، نفسیاتی تعقید یا نفسیاتی الجھاؤ سے پاک ہوتے۔ نفس کی آخری قسم “نفسِ امارہ” ہے۔ نفس جب مکمل طور پرقوت الشہوانیہ کے قبضے میں چلا جائے اور یہاں تک کہ احتجاج بھی نہ کرے تو ایسا نفس، نفسِ امارہ ہوتا ہے۔ تمام جرائم پیشہ افراد، منافق، فاسق و فاجر، مکار، ٹھگ اور حاسد لوگوں میں نفسِ امارہ کا غلبہ ہوتاہے۔

عقل و شعور کا خاصہ علم ہے۔ یعنی عقل علم سے وابستہ ہے اور علم ہی کی بنیاد پر انسان برتر گردانا گیا ہے۔ عمومی طور پرکائنات میں تین طرح کی مخلوقات پائی جاتی ہیں۔ پہلی قسم میں فرشتے ہیں جن میں عقل تو موجود ہے مگر شہوت مفقود ہے۔ دوسری قسم حیوانوں کی ہے جو محروم العقل ہیں لیکن شہوت موجود ہے۔ تیسری قسم انسانوں کی ہے جن میں شہوت اور عقل دونوں عین تناسب کے ساتھ موجود ہیں۔ ان دونوں میں توازن برقرار رکھنے کیلئےعلم ایک ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔ علم جوعقل اور شہوت کے مابین توازن کی ذمہ دار ہے۔ یہاں اس کا کردار بالکل وہی ہے جو تحلیل نفسی  میں فوق الانا (سپر ایگو) کا ہے۔ علم کے بغیر شہوت عقل پر غالب آجاتی ہے اور انسان اسفل الّسافلین کے درجے تک گر جاتا ہے اور معاشرتی برائیوں کا مرتکب ہوتا ہے۔ اور اگر انسان بحیثتِ مجموعی جاہل ہو تو وہ جنگ و جدل اور آدم خوری کی طرف مائل ہوتا ہے اور نسل کشی کرنے لگتا ہے۔ جس کی زندہ مثالیں ہلاکوخان، چنگیز خان، جوزف سٹالن، نپولین بونا پارٹ اور ایڈولف ہٹلر اور جنگِ عظیم اوّل اور دوم شروع کرنے والے افراد ہیں۔  اور اگر انسان علم کی طاقت کو بروئے کار لائے تو شہوت پر عقل کا غلبہ ہو جاتا ہے اور انسان فرشتوں سے افضل ہو جاتا ہے۔تمام انبیائ، صوفیا، اولیا، مہاتما گوتم بدھ، کنفوشئس، مارٹن لوتھر کنگ اور نیلسن منڈیلا جس کی چند ایک مثالیں ہیں۔

تحلیل نفسی میں نفسی قوّت(سائیکک انرجی) جس کو اصطلاحاً لبیڈو کہا جاتا ہے انسان میں جبلی طور پر موجود ہوتی ہے اور یہ نفسانی قوّت، اصولِ تخریب ( Thanatos ) اور اصولِ تعمیر ( Eros ) کا مجموعہ ہوتی ہے۔ انسان کی بقائ و بازمانی کیلئے جس طرح لاذات ( id : جو  اصولِ مسّرت پر کام کرتی ہے)  کے حکم کے مطابق عمل کرنا پڑتا ہے بالکل اسی طرح جسم کی بقا کے لیے روح کو بھی شہوت یعنی منفی جذبات کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ “بھوک” اگرچہ منفی جذبہ ہے مگر زندہ رہنے کیلئے اس کی تکمیل ناگذیر ہے۔ کیونکہ روح کا گھر جسم ہے اور جسم بھوک کے تابع ہے۔ چناچہ روح کے تین محافظوں میں پہلا محافظ “بھوک” ہے جس کو بوقتِ ضرورت “خواہش” بھی کہا جا سکتا ہے۔ “غصہ” روح کا دوسرا محافظ ہے اور یہ بھی منفی جذبے کے زمرے میں آتاہے۔ خواہش کی تکمیل کیلئے غصہ تممہیدی کردار ادا کرتا ہے اور جسمانی اعضائ کی مدد سے بتدریج اس کو مستحکم اور مضبوط کرتا ہے۔ تیسری قسم میں مزید دو انواع کے محافظ ہوتے ہیں۔ پہلی نوع میں حواسِ خمسہ شامل ہیں جو مختلف اعضائ کے سپرد ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری نوع میں پانچ قوتیں شامل ہوتیں ہیں جو دماغ کے اندر پنہاں ہوتیں ہیں۔ ان میں قوّتِ فکر( power of thought )، قوتِ متخیّلہ ( power of imagination )، قوّتِ حافظہ ( power of memory )، قوّتِ احتفاظ( power of retention ( اور قوّتِ تثبیت ( power of consolidation )۔ یہ پانچوں قوّتیں حواسِ خمسہ سے آنے والے تمام پیغامات کا تجزیہ کرتی ہیں بعد ازیں احکامات جاری کرتی ہیں۔ یہ قوّتیں اپنے افعال کے لحاظ سےمکمل طور پر حواسِ خمسہ پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ آزادانہ طور پر بھی کام کرتیں ہیں۔ قوّتِ فکر اور قوتِ متخیّلہ، علومِ مکاشفہ کو حاصل کرنے میں ممد ہیں جبکہ قوّتِ حافضہ، قوّتِ احتفاظ اور قوّتِ تثبیت علومِ معاملہ کے حصول میں معاون ہیں۔ روح جسم کے اندر قیام کرتی ہے اور علم کا گھر روح ہوتی ہے۔ انسان کا اصل مقصد علومِ مکاشفہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ علومِ معاملہ، علومِ مکاشفہ کی بدیہی شرط ہیں۔اس لیئے علومِ معاملہ سے نہ صرف آگاہی ضروری بلکہ ان پر مکمل دسترس ہونا بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ روح کی نمو کے لیسے جسم کا تندرست ہونا ضروری ہے اور روح بقائ کے معاملے میں علم کی طاقت سے منفی جذبات (شہوّت) کو استعمال کر کے مثبت نتائج مرتب کرتی ہے۔  لیکن اگر روح شہوّت کو تسکینِ جسمانی کےلیے استعمال کرتی ہے تو شہوّت روح کو قابو میں لے آتی ہے اور گمراہیوں کا سفر شروع ہوتا ہے۔غزالی کے مطابق انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے چار انواع میں منقسم ہے۔ بلکہ یوں سمجھیئے کہ چاروں اقسام بیک وقت برابر تناسب کے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ فطرتِ حیوانی، فطرتِ شیطانی پہلی دو جبکہ دوسری دو میں فرشتہ صفت انسان اور درندہ صفت انسان شامل ہیں۔ ان چار صفات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے غزالی ان کے منفی و مثبت جذبات (روح اور شہوّت، جبکہ تحلیل نفسی میں Eros and Thanatos ) سے تعلق کی توضیح کرتا ہے۔ درندہ صفت انسان میں غیظ وغضب، نفرت، ملامت اور سرزنش جیسے منفی جذبات کا غلبہ ہوتا ہے۔ فطرتِ حیوانی میں جنسی ہوّس و جنسی شہوّت حاوی ہوتے ہیں۔ فطرتِ شیطانی میں دھوکہ دہی، فریب، مکر، منافقت، غیبت اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ فرشتہ صفت انسان میں اگرچہ منفی جذبات (شہوّت) موجود ہوتے ہیں مگر وہ ان کے اظہار سے اجتناب کرتا ہے۔ غزالی نے ان فطری صفات کا مرکز روح( mind ) کو قرار دیا ہے اور  ان کے توازن بگڑ جانے کی صورت میں نکلنے والے نتائج سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر  اگر انسان محض جنسی شہوّت اور بھوک کی پیروی کرتا ہے تو  اس میں بےشرمی، تنگ دلی، حقارت،  کمینگی، نفرت، بخل، طمع، لالچ جیسی عادات نمو پائیں گی۔ اگر وہ خشم و غصے کے حکم پر چلتا ہے تو اس میں خودبینی و خودآفرینی، گھمنڈ، کدورت، جور و ستم، دوسروں کی توہین کرنا، جیسی برائیاں پیدا ہوں گی جو کہ جدید نفسیات میں مذکورہ روّیے ابنارمل معاشرتی و نفسیاتی روّیوں کی مثالیں ہیں۔ مگر جب وہ تمام قسم کی اخلاقی و معاشرتی برائیوں کو کنٹرول کرنا سیکھ لیتا ہے تو اس میں حکمت و دانائی، خردمندی، دور اندیشی، فہم و فراست جیسی خدائی صفات پیدا ہو جاتی ہیں۔ بالخصوص جب وہ جنسی ہوّس اور بھوک کو اپنے تابع کر لیتا ہے تو اس میں عاجزی و انکساری، صبر و شکر، زہد و ریاضت اور شرم و حیا جیسی خصوصیات پیدا ہوتیں ہیں۔ اور جب انسان غصہ کے جن کو بوتل میں بند کرنا سیکھ لیتا ہے تو اس میں رحمدلی، بردباری، تحمل مزاجی اور بہادری و شجاعت جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں۔اس چھوٹے سے مضمون میں غزالی کے “ںفسیاتی فلسفے” کا مکمل احاطہ کیا جائے تو طوالت مانع ہے مگر اس کا سرسری جائزہ آپ کے سامنے ہے۔ اب ہم سگمنڈ فرائڈ کے نظریہ تحلیل نفسی کی طرف بڑھتے ہیں۔ قارئین کے لیے عرض ہے کہ فرائڈ پیشے کے لحاظ سے طبیب (فزیشن) تھا۔ اس کی تھیوری میں بائیولوجی کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔  وہ اس بات کا قائل تھا کہ فطرتی طور پر انسان میں ایک قسم کی نفسی قوت ( psychic energy ) موجود ہوتی ہے جسے اس نے لبیڈو ( libido ) کا نام دیا۔ لبیڈو دراصل جبلتِ حیات ( life instinct ) ہے۔ اسی جبلت کے تحت انسان کو اپنی بقا کی فکر رہتی ہے۔ شروع شروع میں فرائڈ نے نفسی قوّت کا صرف ایک پہلو بتایا۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ تمام دوسرے جانداروں کی طرح انسان بھی ںظریہ لذتیات ( hedonism ) کے اصول کے مطابق زندگی گذارتا ہے۔ یعنی درد سے بچتا ہے اور مسرت کی تلاش کرتا ہے۔ جبلتِ حیات کے دو پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو اپنی ذات کی نگہداشت ہے۔ مثال کے طور پر سانس لینا، کھانا پینا، سونا وغیرہ۔ اس کا دوسرا پہلو بقائ نوعِ انسانی پر مبنی ہے۔ اس کا تعلق جنس اور جنسی ملاپ سے ہے۔ دونوں صورتوں میں لبیڈو کا ہدف انسان کی بقائ ہی ہے۔ مگر جلد ہی فرائڈ نے لبیڈو کا دوسرا پہلو بھی بتادیا۔ نفسی قوّت دراصل دو متضاد جبلتوں کا مجموعہ ہے۔ جبلتِ حیات ( Eros )کے ساتھ عین تناسب سے جبلّتِ مرگ ( Thanatos ) بھی موجود ہوتی ہے جو اپنے فعل کے لحاظ سے اوّلالذکر سے بالکل الٹ ہے۔ یعنی جبلتِ حیات اصولِ تعمیر پر کام کرتی ہے جبکہ جبلتِ مرگ اصولِ تخریب کی پیروی کرتی ہے۔ یہ انسان کی جارحانہ صلاحیتوں کو مستحکم کرتی ہے۔ یہ جارحانہ مزاج کسی دوسرے کے خلاف ہونے کے علاوہ اپنی ذات کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ سادِیّت پسند ( sadist ) اور خود اذیت پسند  ( Masochist ) لوگوں میں جبلتِ مرگ کا غلبہ ہوتا ہے۔ عام طور پر دونوں ایک ساتھ کام کرتیں ہیں مگر  ان دونوں کا تصادم بھیانک نتائج کا باعث بنتا ہے۔ مثال کے طور پر کھانا کھانے کے عمل کے دوران لاشعوری طور پر دونوں جبلتیں اپنا اپنا کام کر رہی ہوتیں ہیں۔ جبلتِ حیات کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئےخوراک انسان کو توانائی مہیّا کرتی ہے اور زندگی کو بحال رکھتی ہے۔ مگر ساتھ ساتھ “چبانے اور کاٹنے” کا عمل بھی جاری رہتا ہے اور جبلتِ مرگ کا مطالبہ لاشعوری طور پر پورا ہوتا رہتا ہے۔ اسکی دوسری مثالیں جارحانہ پیشے اور کھیل، مثلاً باکسنگ، کراٹے، کشتی، کبڈی اور تمام قسم کی افواج۔ ان تمام راستوں انسان اپنی جارحانہ جبلت کو  لاشعوری طور پر پورا کرتا رہتا ہے۔یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ غزالی نے نفس (soul) کو نفسی قوت اور زندگی کی اساس قرار دیا تھا اور فرائڈ نے اس نفسی قوت کو لبیڈو ( libido )  کا نام دیا۔ مگر خصوصیات کے اعتبار سے دونوں میں مماثلت ھے۔ دونوں ہی غیر مادی ہیں اور دونوں ہی متضاد قوّتوں کا مجموعہ ہیں۔ غزالی کے ہاں جبلتِ مرگ کے افعال شہوت(منفی جذبات) سر انجام دیتی ہے اور جبلتِ حیات کو روح (مثبت جذبات) کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ فرائڈ نے اپنی تھیوری میں ذہن کیلیے “مائینڈ” کا لفظ استعمال کیا اور اس تین سطحیں بتائیں۔ شعور (conscious)، تحت الشعور (preconscious) اور لاشعور (unconscious). عام طور پر انسانی ذہن کو ایک تالاب کی مانند قرار دیا جاتا ہے۔ تالاب کی اوپری سطح پر جو موجود ہوتا ہے اور واضح تیرتا نظر آ رہا ہوتا ہے اسے شعور کہتے ہیں۔ تالاب میں کچھ چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو نہ تو ڈوبتی ہیں اور نہ ہی تیرتی ہیں بلکہ درمیان میں معلق رہتی ہیں، ان کو تحت الشعور کہا جاتا ہے۔ اور وہ تمام کنکر جو اپنے وزن کے اعتبار سے بھاری ہوتے ہیں تالاب کے نیچے بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کو لاشعور کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر شعور کی تعریف کچھ اس طرح سے کرتے ہیں “شعور ایک رواں ندی کی مانند ہے، یہ ہر لمحہ اور پل تغیّر پذیر ہے۔ نت نئے خیالات و تصوّرات احاطہ شعور میں آتے رہتے ہیں۔” غزالی نے روح کے “محافظوں” کے تیسری قسم میں جو حواسِ خمسہ کا حوالہ دیا ہے دراصل وہ ہمارے شعوری تجربے کا سبب بنتے ہیں اور ہمیں چیزوں اور تجربات  کی صحیح فہم عطا کرتے ہیں۔ “تحت الشعور ” لاشعور اور شعور کے مابین معلومات و یاداشت کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔  مگر فرائڈ نے اس کے میکانزم کی وضاحت نہیں کی۔ لیکن غزالی نے جن پانچ قوّتوں کی نشاندہی کی تھی ان میں سے تین،  قوّتِ حافظہ ( power of memory )، قوّتِ احتفاظ( power of retention ( اور قوّتِ تثبیت ( power of consolidation ) اس میکانزم کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ واقعات کو یاد رکھنے کیلیے قوتِ حافظہ کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ بھولی بسری یادوں اور چہروں کو شعوری سطح پر لانے کیلیے قوّتِ احتفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ کسی واقعے کو کسی خاص جگہ یا انسان سے منسوب کرتے ہوئے قوّتِ تثبیت کام آتی ہے۔ فرائڈ نے اپنی کتاب “خوابوں کی تعبیر” میں لکھا ہے کہ “لا شعور ہی نفس ہے لیکن اس کی صحیح ماہیّت اور فطری خصوصیت سے ہم خارجی دنیا کی مانند نا آشنا رہتے ہیں۔ لا شعور کے بارے میں شعور ہمیں جو کچھ بتاتا ہے وہ خارجی دنیا کے بارے میں حواسِ خمسہ سے اخذ شدہ معلومات کی طرح نامکمل ہوتا ہے۔” انسانی ذہن کی توجیہ کے بعد فرائڈ نے انسان کی نفسیاتی شخصیت کی ساخت کا بنیادی ڈھانچہ وضع کیا۔ ساخت کا اعتبار سے شخصیت کے تین اجزائ ترکیبی  لاذات (id)، انا (ego) اور ما فوق الانا (super-ego) پر مشتمل ہے۔ لاذات کا تعلق خالصتاً حیاتیاتی ضروریات سے ہے۔ یہ فرد کی جنسی، ہیجانی اور جبلی قوّتوں کا باعث ہوتی ہے۔ ماہیّت کے اعتبار سے یہ لاشعوری ہے۔ اپنی آسودگی اور خواہشات کی تکمیل کےلئے یہ اخلاقی ضوابط سے ماورائ ہوتی ہے۔ عقلی لحاظ سے یہ غیر منتقی ہے۔ اِڈ میں قوّت کا ایک بے انتہا ذخیرہ موجود ہوتا ہے مگر یہ ذخیرہ زندگی کی دو جبلتوں (حیات و ممات) سے مستعار لیا ہوا ہوتا ہےانا ساخت کے اعتبار سے تو  لاذات سے ہی ماخذ ہے مگر ماہیّت کے اعتبار سے شعوری ہے۔ اس لیے یہ اِڈ کی متضاد سمتوں میں کام کرتی ہےانا (ego) فہم اور ذہنی توازن کی نمائندہ ہوتی ہے۔ برعکس اس کے لا ذات(id) صرف نفسانی خواہشات کا مجموعہ ہے اور فوق الانا (super ego) کو انا پر نگران مقرر کیا گیا ہے۔ بعض صورتوں میں سپر ایگو کو ضمیر (conscience) بھی کہا جاتا ہے۔ ضمیر انسان کی وہ باطنی حس (internal sense) ہے جو اسے صحیح اور غلط کا احساس دلاتی ہے۔ ضمیر دراصل انسان کے اندر کی آواز ہے اور اخلاقیات کے سارے چشمے اسی سے پھوٹتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ضمیر کو صحیح اور غلط کا شعور کہاں سے آتا ہے ؟فرائڈ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ سپر ایگو معاشرے میں رائج رسم و رواج کی بدولت پروان چڑھتی ہے۔ اس کی نمو میں والدین کی سختی و نرمی کا کردار بہت نمایاں ہوتا ہے۔ مذہب اور اس کی تعلیمات اس کو مضبوط و مستحکم کرتے ہیں۔ بچپن میں بچوں میں شرم و حیا جیسی عادتیں مفقود ہوتی ہیں مگر وقت اور عمر کے تقاضے پورے کرتے کرتے وہ سیکھ جاتے ہیں۔ معاشرے میں رائج اصولوں کی کسوٹی پر وہ صحیح و غلط کی پہچان کرنے لگتے ہیں۔ اعمال و افعال کو اچھائی اور برائی کی درجہ بندیوں میں شامل کرنے لگتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک اچھائی اور برائی کا کوئی آفاقی میعار متعیّن نہ ہو سکا۔ سپر ایگو بنیادی طور پر اصولِ اخلاقیات ( moral principle)  پر عمل پیرا ہوتی ہے۔ وہ بقائ کے مقابلے میں اخلاقیات کو مقدم رکھتی ہے۔ اپنے نظریے پہ ڈٹ جانے والے ثابت قدم لوگ نوکِ سناں پر تو چڑھ جانا پسند کرتے ہیں مگر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اقبال کا مردِ کامل بھی اس معاملے میں صفِ اوّل میں ہوتا ہے اس کا ضمیر(conscience) اخلاق اور خود داری کے اعلی میعار پر فائز ہوتا ہے۔ مگر اس بحث کو ہم کسی دوسرے مضمون کے لئے باز رکھتے ہیں۔ انا کا مطالبہ ہمیشہ سے بقائ کی خاطر ہوتا ہے اس لیے وہ لاذات کو ہر وہ کام کرنے سے باز رکھتی ہے جس میں انسان کی بقائ کو ذرہ سا بھہ خطرہ ہو۔ لاذات اور فوق الانا میں اگر توازن بگڑ جائے تو انا فوراً مداخلت کر کے معاملہ سلجھا  دیتی ہے ما سوا ئےایسی صورتِ حال کے جس میں لاذات کی جبلتِ مرگ (death instinct) کی قوّت حد درجہ زیادہ ہوتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں سپر ایگو کی مزاحمت کے باوجود id  اپنا کام مکمل کرتی ہے۔ نتیجتاً سپر ایگو احتجاج شروع کردیتی ہے، انسان کو لعن طعن کرتی ہے، ضمیر کی عدالت میں انسان کو مجرم بنا دیتی ہے اور یوں انسان میں احساسِ جرم جنم لیتا ہے جو ہمیں فرانز کافکا کے کرداروں اور فیودر دستووئسکی کے ناول “جرم و سزا” کے مرکزی کردار “رسکولینوکوف” میں نظر آتا ہے۔قصہ المختصر، فرائڈ نے شخصیّت کی نفسیاتی ساخت کا جو میکانزم بیان کیا ہے اس کی مماثلت غزالی کے تصوّرِ نفس میں دیکھی جا سکتی ہے۔ غزالی نے نفس کی تین اقسام بیان کی ہیں۔ ان میں “نفسِ لوّامہ” مسلسل حالتِ جنگ میں رہنے کے سبب بہت مضطرب اور مضمحل ہوتا ہے۔  دونوں منفی و مثبت  جذبات (خواہش اور  ضمیر) بیک وقت نفس پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ غزالی نے بتایا کہ جو لوگ احساسِ گناہ  کا شکار ہوتے ہیں ان میں “ضمیر” اور “خواہش” کی آپس میں جنگ ہو رہی ہوتی ہے۔ منفی جذبات طاقت کے حوالے سے فرائڈ اور غزالی متفق نظر آتے ہیں۔ جس طرح تحلیل نفسی میں لاذات بہت طاقتور ہے بالکل اسی طرح غزالی کے ہاں شہوت کسی عربی النسل گھوڑے کی مانند خودسر اور  زور آور ہے۔ غزالی کے ہاں ضمیر اور خواہش (روح اور شہوت) کا تصادم “علم” حل کرتا ہے۔ علومِ معاملہ کا تعلق مکمل طور پر دنیاوی معاملات سے ہے۔ اس لیے یہاں ان کردار بالکل وہی ہے جو تحلیل نفسی میں ego  کا ہے۔ جبکہ علومِ مکاشفہ کا تعلق روحانی علم سے ہے جو در اصل حلال و حرام، اچھائی و برائی اور صحیح و غلط کے میعار کی اساس ہے۔ اس لیے علومِ مکاشفہ سپر ایگو کے مشابہ ہیں۔